ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ہائی کورٹ نے دل بدل مخالف قانون سے متعلق اپنے فیصلے کا جائزہ لینے سے کیا انکار 

ہائی کورٹ نے دل بدل مخالف قانون سے متعلق اپنے فیصلے کا جائزہ لینے سے کیا انکار 

Wed, 03 Aug 2016 19:53:26    S.O. News Service

نئی دہلی، 3 ؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے دل بدل مخالف قانون پر اپنے دو دہائی پرانے فیصلے کا جائزہ لینے سے آج انکار کر دیا۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کسی پارٹی کا کوئی منتخب یا نامزدایم پی بے دخلی کے بعد بھی اس کا وہپ ماننے کے لیے پابند ہے۔جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس پی سی پنت اور ارون مشرا کی تین رکنی بنچ نے امرسنگھ اورجیاپرداکی طرف سے دائر درخواست کاتصفیہ کرتے ہوئے کہاکہ حالانکہ ہم نے تفصیل سے معاملے کوسنا۔ ہم سوال کا جواب نہیں دے رہے ہیں ۔سپریم کورٹ اس سوال پر فیصلہ کر رہا تھا کہ پارٹی سے نکالا گیا کوئی رکن اگر پارٹی وہپ کو نہیں مانتا تو اسے قانون کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟۔سنگھ اور جیہ پردا اس وقت بالترتیب راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے رکن تھے اور انہوں نے سماج وادی پارٹی سے نکالے جانے پرسپریم کورٹ کا رخ کیا تھا کیونکہ اس کے بعد انہیں پارلیمنٹ سے نکالے جانے کا خدشہ تھا۔بیجو جنتا دل سے نکالے گئے پی مہاپاتر نے بھی اس معاملے پر سپریم کورٹ میں عرضی دی تھی۔بنچ نے کہاکہ درخواست گزار ایم پی پہلے ہی اپنی مدت مکمل کر چکے ہیں،اس سوال کا جواب نہ دینا ہی زیادہ صحیح ہو گا۔اس سے پہلے عدالت نے1996میں دئیے گئے اپنے فیصلے کاجائزہ لینے کے مطالبہ سے منسلک درخواست پرفیصلہ محفوظ رکھا تھا۔درخواست گزاروں نے کہاتھاکہ وہ پارٹی سے نکالے گئے ارکان کے طورپرایک مشکل صورتحال میں ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ اگر وہ پارلیمنٹ میں کسی بھی مسائل پرپارٹی کے وہپ کو نہیں مانتے تو دل بدلو مخالف قانون کے تحت انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت کے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔سنگھ اب سماج وادی پارٹی میں واپس لوٹ آئے ہیں اور حال ہی میں پارٹی کی طرف سے نامزد کئے جانے کے بعد وہ راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے ہیں ۔


Share: